کلام محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 191 of 302

کلام محمود — Page 191

۱۲۸ یه غزل جو درحقیقت پندرہ سولہ سال پہلے بھی گئی تھی مگر کہیں گم ہوگئی۔اب کچھ یادسے کام کے کوکچھ نئے شعر کہ کرکل ہوتی ہے۔(مرزا محمود احمد) نگاہوں نے تری مجھ پر کیا ایسافسوں ساتی کہ دل میں جوش وحشت ہے تو سر میں ے جنوں ساقی جیوں تو تیری خوشنودی کی خاطر ہی ہوں ساتی مروں تو تیرے دروازے کے آگے ہی مروں ساقی پلائے تو اگر مجھ کو تو میں اپنی پہیوں ساتی رہوں گا حشر قدموں پر ترے میں سرنگوں ساقی تری دنیا میں فرزانے بہت سے پائے جاتے ہیں مجھے تو بخش دے اپنی محبت کا جنوں ساتی ہوا اک تیرے میخانے کے رہنے منانے خالی ہیں پلائے گر نہ تو مجھ کو تو پھر میں کیا کروں ساقی تجھے معلوم ہے جو کچھ میرے دل کی تمنا ہے مرا ہر ذرہ گویا ہے زباں سے کیا کھوں ساتی دہ کیا صورت ہے جس سے بین نگاہ مکلف کو پاؤں چھووں دامن کو تیرے پاتے پاؤں پڑوں ساتی مجھے قید مجتت لاکھ آزادی سے اچھلتی ہے کچھ ایساکر کہ پابند سلاسل ہی رہوں ساتی ترے در کی گدائی سے بڑا ہے کونسا درجہ مجھے گر بادشاہت بھی ملے تو میں نہ گوں ساتی ندا ہوتے ہیں پروانے اگر شمع منور پر تو تیرے روئے روشن پر نہ میں کیوں جان دں ساتی نہ صورت ان کی مسجد میں پیدا ہے نہ مندرمیں زمانہ میں یہ کیا ہو رہا ہے کشت و خوں ساتی میدان محبت سے ہی میخانے کی رونق ہے پھلکتا ہے ترے پیمانہ میں اُن کا ہی خوں ساتی اخبار الفضل جلد ۲ - لاہور پاکستان - درستی نشانه