کلام محمود — Page 6
رحم وہ ہم پر کئے جن کی نہیں کچھ گنتی جن میں سے سب سے بڑی مذہبی ہے آزادی ساتھ لاتے یہ ہزاروں نئی ایجادیں بھی جو نہ کانوں تمھیں منی اور نہ آنکھوں دیکھی عدل و انصاف میں وہ نام کیا ہے پیدا آج ہر ملک میں جس کا کہ بجا ہے ڈنکا شیر و بکری ہی ہیں اک گھاٹ پر پانی پیتے نہیں نکن کہ کوئی تر بھی نظر سے دیکھے ایک ہی جا پہ ہیں سب رہتے بڑے اور بھلے کیا مجال ان سے کسی کو بھی جو صدمہ پہنچے سب جو آپس میں ہیں یوں ہو ہ سے شیر وشکر اس لیے ہے کہ نظر سب پر ہے ان کی بخیر ہند میں ریل اُنھوں نے ہی تو جاری کی ہے آمد و رفت میں میں سے بہت آسانی ہے صیغہ ڈاک کو انھوں نے ہی ترقی دی ہے ملک میں چاروں طرف تار بھی پھیلائی ہے تاکہ انصاف کے پانے میں نہ ہو کچھ وقت منصفوں اور جوں تک کی بھی کی ہے کثرت علم کا نام و نشاں یاں سے مٹا جاتا تھا شوق پڑھنے کا دلوں میں سے اُٹھا جاتا تھا کوئی عالم کبھی اس ملک میں آجا تا تھا دیکھ کر اس کا یہ حال اشک بہا جاتا تھا یہ وہ بیمار تھا جس کو سبھی رو بیٹھے تھے ہاتھ سب اس کی شفایابی سے دھو بیٹھے تھے پر وہ رب جس نے کہ سب کچھ ہی کیا ہے پیدا نہ تو ہے باپ کسی کا نہ کسی کا بیٹا سارے گندوں سے ہے پاک اور ہے واحد یکتا نہ وہ تھکتا ہے نہ سوتا ہے نہ کھاتا پیتیا رحم کرتا ہے ہمیشہ ہی وہ ہم بندوں پر کرستی عدل پہ بیٹھے گا جو روزِ محشر