کلام محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 7 of 302

کلام محمود — Page 7

جو کہ قادر ہے جسے کچھ بھی نہیں ہے پروا ٹھیک کرے اسے دم میں کہ ہو جو کچھ بگڑا دیکھ کر اپنی یہ حالت اسے جب رحم آیا دیکھیو انگلینڈ سے اس قوم کو یاں سے آیا جس نے آتے ہی وہ نقشہ ہی بدل ڈالا ہے جس جگہ خار تھا اب واں پہ گل لالہ ہے سلسلے ہر جگہ تعلیم کے جاری ہیں گئے شہروں اور گاؤں میں اسکول بکثرت کھولے کا لجوں کے بھی ہیں شہروں میں گھلے دروان سے ہر جگہ ہوتے ہیں اب علم و ہنر کے چرچے کام ڈہ کر کے دکھایا کہ جو ناممکن تھا آئے جب ہند میں وہ کیا ہی مبارک دن تھا انگلش ! تیری ہر فرقے پہ ہے ایک نظر اس لئے تجھ پہ ہمیں ناز ہے سبسے بڑھ کر تھا مسیحا بھی تو پیدائش وقت قیصر زندگی چھوٹے بڑے چین سے کرتے تھے بسر اب مکرر جو ہے پھر وقت سیما آیا قیصر روم کا کیوں ثانی نہ پیدا ہوتا ابن مریم سے ہے جس طرح یہ عالی رتبہ قیصر ہند بھی ہے قیصر روما سے بڑا مصطفے کا یہ غلام اور وہ علامہ موسی دیکھ لو کس کا ہے دونوں میں سے درجہ بالا قیصر روم کے محکوم تھے اک فوٹو ہے تاج انگلشیہ پہ ممکن نہیں سُورج ڈوبے حق سے محمود بس اب اتنی دُعا ہے میری جس نے ہم کو کیا خوش رکھے اسے وہ راضی فتح و نصرت کی انہیں روزی پہنچے خوشی دُور ہو دین میں ہے ان کی جو یہ گمراہی ت این اسلام میں اب ان کی بجھ میں آجائے بات یہ کچھ بھی نہیں رحم اگر وہ فرمائے *