کلام محمود — Page 5
سلطنت کچھ تو انہی باتوں سے بے جان ہوئی کچھ ٹیٹروں نے غصب کر دیا آفت ڈھائی اک طرف مرہٹوں کی فوج سے لڑنے کو کھڑی دُوسری جاپہ ہے سکھوں نے بھی شورش کردی چاروں اطراف میں پھیلا تھا غرض اندھیرا نشکریاس نے ہر سمت سے تھا آگھیرا لڑتے بھڑتے رہیں آپس میں امیر اور وزیر کیوں پیس گھن کی طرح ساتھ غریب اور فقیر مدعا انکا تو لڑنے سے ہے بس تاج و سرپر ہاتھ میں یاروں کے رہ جائے گی خالی کفگیر ان غریبوں کو امیروں نے ڈبویا افسوس بات جو بیت بھی اس پر کریں کیا افسوس الفرض چین کیجے کو نہ دل کو آرام رات کا فکر لگا رہتا تھا سب کو سر شام می کو خوف کہ ہو آج کا کیسا انجام رات دن کاٹتے اس طرح سے تھے ناکام دل سے انکے دیکھتی تھیں دعائیں دن رات یا الہی تیرے فضلوں کی ہو ہم پر برسات اُن پر ڈالی گئی آخر کو تلف کی نظر مثل کا فور اڈا دل سے جو تھا خوف خطر یک تعلم ملک سے موقوف ہوئے شورش و شیر نہ تو رہزن کا رہا کھٹکا نہ چوروں کا ڈر پھائے رکھے گئے واں مریم کا فوری کے دیئے جاتے تھے جہاں زخم جگر کے چھڑ کے قوم انگلش نے دیا آکے سمارا ہم کو بھی افکار کے ہے پار اُتارا ہم کو در نہ صدموں نے تو تھا جان سے مارا ہم کو آگے مشکل تھا بہت کرنا گذارا ہم کو ہند کی ڈوبی ہوئی کشتی ترائی اُس نے ملک کی بجڑی ہوئی بات بنائی اُس نے