کلام محمود — Page 143
گر تیری ہمت چھوٹی ہے گر تیرے اراد سے مردہ ہیں گر تیری اُمنگیں کو تہ ہیں گر تیرے خیال افسردہ ہیں کیا تیرے ساتھ لگا کر دل میں خود بھی کمینہ بن جاؤں ہوں جنت کا مینار ، مگر دوزخ کا زینہ بن جاؤں ہے خواہش میری اُلفت کی تو اپنی نگاہیں اُونچی کر تدبیر کے جالوں میں مت پھنس کر قبضہ جا کے معتذر پر میں واحد کا ہوں دل داده اور واحد میرا پیارا ہے گر تو بھی واحد بن جائے تو میری آنکھ کا تارا ہے تو ایک ہو ساری دنیا میں کوئی سا بھی اور شریک نہ ہو تو سب دُنیا کو دے لیکن خود تیرے ہاتھ میں بھیک نہ ہو