کلام محمود — Page 144
۱۳۴ ندایا اے میرے پیارے خُدایا الہ العالمين رب البرایا میک و مالک و خلاق عالم رحیم و راحم و بحر العطایا تری درگہ میں اک اُمید ہے کہ تیرا اک بندہ عامی ہے آیا وہ خالی ہاتھ ہے ہر پیشکش سے نہیں لایا وہ ساتھ اپنے ھدایا جو تُو نے دی تھی اس کو طاقت خیر وہ کر بیٹھا ہے اس کا بھی صفایا ره حیوانوں سے بدتر ہو رہا ہے نہیں تقویٰ میں حاصل کوئی پایا رسمٹ کر بن گئی نیکی سویدا اُفق پر چھا گئیں اس کی خطایا بتاؤں کیا کہ شیطاں نے کہاں سے کہاں لے جائے ہے اس کو گرایا نہیں آرام پل نمبر بھی میسر ہے اس ظالم نے کچھ ایسا ستایا جہاں کا چپہ چپہ دیکھ ڈالا مگر کوئی ٹھکانا بھی نہ پایا ہوا مایوس جب چاروں طرف سے نہ جب کوشش نے اس کا کچھ بنایا تو ہر پھر کر یہی تدبیر شو بھی تری تقدیر کا در کھٹکھٹایا یہی ہے آرزو اس کی الٹی یہی ہے التبہ اس کی خُدایا کہ مشرق اور مغرب دیکھ ڈالے سکوں لیکن کہیں اس نے نہ پایا تری درگاہ میں وہ آخر الامر تمنا دل میں لے کر ہے یہ آیا تری رحمت کی دیواروں کے اندر کلام اللہ کا مل جائے سایا تو وہ دھونی محبت کی رہا کر جلا دے سب جہالت اور مایا اخبار الفصل جلد ۱۷ ۱۷ر جنوری سنه