کلام محمود — Page 142
AL میں اپنے پیاروں کی نسبت ہرگز نہ کروں گا پسند بھی وہ چھوٹے درجہ پہ راضی ہوں اور اُن کی نگاہ رہے پنچی وہ چھوٹی چھوٹی باتوں پر شیروں کی طرح غراتے ہوں اونی سا تصور اگر دیکھیں تو منہ میں گف بھر لاتے ہوں وہ چھوٹی چھوٹی چیزوں پر امید لگائے بیٹھے ہوں وه ادنی اونی خواہش کو مقصود بنائے بیٹھے ہوں شمشیر زباں سے گھر بیٹے دشمن کو مارے جاتے ہوں میدان عمل کا نام بھی لو تو جھینتے ہوں گھبراتے ہوں گیدڑ کی طرح وہ تاک میں ہوں شیروں کے شکار پہ جانے کی بیٹھے خوابیں دیکھتے ہوں وہ ان کا جوٹھا کھانے کی الفت کے طالب! یہ میرے دل کا نقشہ ہے اب اپنے نفس کو دیکھ لے تو وہ ان باتوں میں کیسا ہے اور اے میری اخبار الفضل جلد ۱۷ ۰ار جنوری منتشله 11-14