کلام محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 139 of 302

کلام محمود — Page 139

پنے سینے سے لگا کر میں تمھیں جانے نہ دوں گا میں تمھیں جانے نہ دوں گا اس قدر محنت اُٹھا کر دولت راحت کا کر تم کو پایا جاں گنوا کر اب تو میں جانے نہ دوں گا میں تمھیں جانے نہ دوں گا آسماں شاہد نہیں کیا میرے اقتدار وفا کا اے میری جان میرے سوئی میں تمہیں جانے نہ دوں گا میں تمھیں جانے نہ دوں گا تم ہو میری راحتِ جاں تم سے وابستہ ہے ارمان زور سے پکڑوں گا داماں میں تمھیں جانے نہ دوں گا ئیں تمھیں جانے نہ دوں گا کیا سُناتے ہو مجھے تم کیوں بتاتے ہو مجھے تم بس بناتے ہو مجھے تم میں تمھیں جانے نہ دوں گا میں تمھیں جانے نہ دوں گا سد کو پاؤں پر دھروں گا آنکھیں تلووں سے کلموں گا نقش پا کو چوم لوں گا میں تمہیں جانے نہ دوں گا ئیں تمھیں جانے سنہ دوں گا کیا ملات توں کی رائیں تھیں جو مجھ کو شب براتیں یوں ہی ہو جائیں گی باتیں میں تمھیں جانے نہ دوں گا میں تمھیں جانے نہ دوں گا