کلام محمود — Page 140
میری حالت پر نظر کر عیب سے سے غض بصر کر ڈھیر ہو جاؤں گا مرکز پر تجھے جانے نہ دوں گا میں تمھیں جانے نہ دوں گا ٹوٹ جائیں کس طرح سے عمر کے مضبوط رشتے اس لیے ہم کیا ملے تھے میں تمھیں جانے نہ دوں گا میں تمھیں جانے نہ دوں گا خواہ مجھ سے روٹھ جاؤ مُنہ نہ سالوں تک دکھاؤ یاد سے اپنی بھلاؤ میں تمھیں جانے نہ دوں گا میں تمھیں جانے نہ دوں گا تم تو میرے ہو چکے ہو تم میرے گھر کے دیے ہو میرے دل میں بس رہے ہو میں تمہیں جانے نہ دوں گا میں تمہیں جانے نہ دوں گا آؤ آؤ مان جاؤ مجھ کو سینے سے لگاؤ دل سے سب شکوے بناؤ میں تمھیں جانے نہ دوں گا میں تمھیں جانے نہ دوں گا *