کلام محمود — Page 123
١٢٣ تیری خدمت میں یہ ہے عرض بعد عجز و نیاز قبضہ غیر میں اے جاں مری جان نہ ہو تو ہے مقبول الہی بھی تو یہ بات نہ بھول سامنے تیرے کوئی موسی عمران نہ ہو ابن آدم ہے نہ کچھ اور تجھے خیال رہے مد نسیان سے بڑھ کر کہیں عصیان نہ ہو مجھ میں ہمت ہے تو کچھ کر کے دکھا دُنیا کو اپنے اجداد کے اعمال پہ نازان نہ ہو اپنے ہاتھوں سے ہی خود اپنی عمارت مدگرا مخرب دین نہ بن دشمن ایمان نہ ہو ہی خود بود و احسان شہنشہ پر نظر رکھ اپنی بخور اخیار پر افسردہ و نالان نہ ہو اپنے اوقات کو اسے نفیس مریس و طابع شکر منت میں لگا طالب احسان نہ ہو آگ ہوگی تو دھواں اس سے اٹھے گا محمود غیر ممکن ہے کہ ہو عشق پہ اعلان نہ ہو