کلام محمود — Page 122
کونسا دل ہے بوشہر منڈ احسان نہ ہو کونسی روح ہے جو خالف و ترسان نہ ہو میرے ہاتھوں سے بدا یار کا دامان نہ ہو میری آنکھوں سے کہ اوبل کبھی اک آن نہ ہو مصنفہ گوشت ہے وہ دل میں جو ایمان نہ ہو خاک سی خاک ہے وہ جسم میں گر جان نہ ہو اپنی حالت پہ یونسی فرم دستاران نہ ہو یہ سکوں پیش رو آمد طوفان نہ ہو مبتلائے غم و آلام پر خندان نہ ہو یہ کہیں تیری تباہی کا ہی سامان نہ ہو اپنے اعمال پہ غزہ ارے نادان نہ ہو تو بھلا چیز ہے کیا اُس کا جو احسان نہ ہو نہ ٹیمیں گے نہ نکلیں گے نہ ملیں گے سر بھی جب تلک سر بد ع د کفر کا میدان نہ ہو رنگ بھی روپ بھی ہوشن بھی ہو لیکن پھر فائدہ کیا ہے اگر سیرت انسان نہ ہو نہ سہی خود پر وہ کام تو کر تو جس میں غیر کا نفع ہو تیرا کوئی نقصان نہ ہو عشق کا دعوی ہے تو عشق کے آثار دکھا دعوی باطل ہے وہ جس دعوی پہ برہان نہ ہو مرحبا ! وحشت دل تیرے سب سے یہ نا میں ترے پاس ہوں سرگشته و حیران نہ ہو بادہ نوشی میں کوئی لطف نہیں ہے جبتک صحبت یار نہ ہو مجلس رندان نہ ہو مبیل زار تو مرجائے تڑپ کر فوراً گوگل تازہ نہ ہو بُوئے گلستان نہ ہو اخبار الفضل جلد ۱۲ - ۱۶ ربون له