کلام محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 124 of 302

کلام محمود — Page 124

۷۴ ہوتا تھا بھی میں بھی کسی آنکھ کا تارا بتلاتے تھے اک قیمتی دل کا مجھے پارا دنیا کی نگہ پڑتی تھی جن ماہ وشوں پر وہ بھی مجھے رکھتے تھے دل وجان سے پیارا ہو جاتی تھی موجود ہر اک نعمت دینا بس چاہئے ہوتا تھا میرا ایک اشارا مجھولوں کا مجوب تھا دلداروں کا دلدار معشوقوں کا معشوق دلاروں کا دلارا تھوڑی سی بھی تکلیف مری اُن پہ گراں تھی کرتے نہ تھے اک کانٹے کا چھنا بھی گوارا یا آج میرے حال پہ روتا ہے فلک بھی سورج کا جگر بھی ہے غم ورنج سے پارا یا غیر بھی آکر میری کرتے تھے خوشامد یا اپنوں نے بھی ذہن سے اپنے ہے اتارا یا میری ہنسی بھی تھی عبادت میں ہی داخل یا زهد و تعبد میں بھی پاتا ہوں خارا یا گند پھری ہاتھ میں دیتا نہ تھا کوئی یا زخموں سے اب جسم مرا چور ہے سارا یا زانوئے دلدار میرا تکیہ تھا یا آب سر رکھنے کو ملتا نہیں تھر کا سلا جو گھنٹوں محنت سے کیا کرتے تھے باتیں اب سامنے آنے سے بھی کرتے ہیں کنارا جس پر مجھے اُمید تھی شافع مرا ہو گا اس ساعت عسرت میں ہے اس نے بھی بیسارا ہے مہر جو جاں سوز تو فریاد حیاسوز بے تاب خموشی ہے نہ گویائی کا چارا اخبار الفضل جلد ۱۲ - ۹ جولائی شد