کلام محمود — Page 96
۹۶ ۵۲ نو نهالان جماعت مجھے کچھ کہنا ہے پر ہے یہ شرط کہ ضائع ہرا پیغام نہ ہو چاہتا ہوں کہ کروں چین نصائح تم کو تاکہ پھر بعد میں مجھ پر کوئی الزام نہ ہو جب گذر جائیں گے ہم تم پر پڑیگا سب بار شستیاں ترک کر و طالب آرام نہ ہو خدمت دین کو اک فضل الہی جا تو اس کے بدلے میں کبھی طالب نعام نہ ہو دل میں جو سوز تو آنکھوں سے رواں ہوں آنسو تم میں اسلام کا ہو من را فقط نام نہ ہو سر میں نحوست نہ ہو آنکھوں میں ہو برق غضب دل میں کینہ نہ ہو لب پر کبھی دشنام نہ ہو خیر اندیشی احباب رہے مد نظر عیب چینی نہ کرو مفید و نام نہ ہو چھوڑ دو برس کرد زهد و قناعت پیدا کر نہ محبوب بنے سیم دل آرام : زر نہ ہو رغبت دل سے ہو پابند نماز و روزہ نظر انداز کوئی حصہ احکام نہ ہو پاس ہو مال تو دو اس سے زکوۃ وصدقہ فکر سکیں رہے تم کو غم ایام نہ : محسن اس کا نہیں کھلتا تمہیں یہ یاد رہے دوش مسلم پر اگر چادر احرام نہ ہو عادت ذکر بھی ڈالو کہ یہ ممکن ہی نہیں دل میں ہو عشق صنم لب پہ مگر نام نہ ہو عقل کو دین پر حاکم نہ بناؤ ہرگز یہ تو خود اندھی ہے گر نیز الہام نہ ہو جو صداقت بھی ہو تم شوق سے بانو اسکو علم کے نام سے پر تابع اوہام نہ ہو اخبار الحكم بلد ۱۷۰۲۲ اکتوبر ستشاه ہو