کلام محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 95 of 302

کلام محمود — Page 95

سمجھتے کیا ہو کہ عشق کیا ہے یہ عشق پیارو کٹھن بلا ہے جو اس کی فرقت میں ہم پر گذاری کبھی وہ قصہ سنائیں گے ہم ہمیں نہیں عطر کی ضرورت کہ اس کی خوشبو ہے چند روزہ بُوئے محبت سے اس کی اپنے دماغ و دل کو بہائیں گے ہم ہمیں بھی ہے نبدت تلمذ کسی مسیحا نفس سے حاصل ہوا ہے بے جان گو کہ مسلم مگر اب اس کو ملائیں گے ہم مٹا کے نقش و نگار دیں کو یو منی ہے خوش دُشمن حقیقت جو پھر کبھی بھی نہ مٹ سکے گا اب ایسا نقشہ بنائیں گے ہم خُدا نے ہے خضر رہ بنایا ، ہمیں طریق محمدی کا جو بھولے بھٹکے ہوئے ہیں ان کو صنم سے لا کر ملائیں گے ہم ہماری ان خاکساریوں پر نہ کھائیں دھوکا ہمارے دشمن جو دیں کو تر بھی نظر سے دیکھا تو خاک اُن کی اُڑائیں گے ہم مٹا کے کفر و ضلال و بدعت کریں گے آثار دیں کو تازہ خُدا نے چاہا تو کوئی دن میں ظفر کے پرچم اُڑائیں گے ہم خبر بھی ہے کچھ تجھے او ناداں کہ مردم چشم یار میں ہم اگر ہمیں کچھ نظر سے دیکھا تو تجھ پہ بجلی گرائیں گے ہم وہ شہر جو کفر کا ہے مرکز ہے جس پہ دین مسیح نازاں ندائے واحد کے نام پر اک اب اس میں مسجد بنائیں گے ہم پھر اس کے مینار پر سے دنیا کو حق کی جانب بلائیں گے ہم کلام ربت رحیم در همان بیانگ بالا سنا ئیں گے ہم *