کلام محمود — Page 97
94 دشمنی ہو نہ محبان مُحسند سے تمہیں جو معاند میں تمہیں ان سے کوئی کام نہ ہو امن کے ساتھ رہو فتنوں میں حصہ مست او باعث نکرد پریشانی حکام نہ ہو اپنی اس عمر کو اک نعمت عظمی سمجھو بعد میں تاکہ تمھیں شکوہ ایام نہ ہو حُسن من ہر رنگ میں اچھا ہے مگر خیال ہے دانہ مجھے ہو جسے تم وہ کہیں وام نہ ہو تم مدینہ ہو کہ جرنیل ہو یا عالم ہو ہم نہ خوش ہوں گے کبھی تم میں گر سلام نہ ہو سیلف رسپکت کا بھی خیال رکھو تم بیشک یہ نہ ہو پر کہ کسی شخص کا اکرام نہ ہو عمر ہو ئیسر ہو تنگی ہو کہ آسائش ہو کچھ بھی ہو بند مگر دعوت اسلام نہ ہو تم نے دنیا بھی جو کی فتح تو کچھ بھی نہ کیا نفس وحشی و جفا کیش اگر رام نہ ہو من و احسان سے اعمال کو کرنا نہ خراب رشته وصل کہیں قطع سیر بام نہ ہو بھولیو مت کہ نزاکت ہے نصیب نسواں مرد وہ ہے جو جفا کش ہو گل اندام نہ ہو شکل نے دیکھ کے گرنا نہ منگل کی مانند دیکھ لینا کہ کہیں درد نہ جام نہ ہو یاد رکھنا کہ کبھی بھی نہیں پاتا عزت یار کی راہ میں جب تک کوئی بدنام نہ ہو کام مشکل ہے بہت منزلِ مقصود ہے اور اے میرے اصل وفائت کبھی کام نہ ہو گامزن ہو گے رو صدق و صفا پر گر تم کوئی مشکل نہ رہے گی جو سرانجام نہ ہو حشر کے روز نہ کرنا ہیں رُسوا ؤ خراب پیار و آموخته درس وفا خام نہ ہو ہم تو جس طرح بننے کام کیے جاتے ہیں آپ کے وقت میں یہ سلسلہ بدنام نہ ہو میری تو حتی میں تمھارے یہ دُعا ہے پیار و سر پہ اللہ کا سایہ رہے نا کام نہ ہو ظلمت رنج و غم و درد سے محفوظ رہو میر انوار درخشندہ رہے شام نہ ہو SELF RESPECT