کلام محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 94 of 302

کلام محمود — Page 94

۵۱ تری محبت میں میرے پیارے ہر اک مصیبت اُٹھائیں گے ہم گر نہ چھوڑیں گے تجھ کو ہرگز نہ تیرے در پر سے جائیں گے ہم تری محبت کے جرم میں ہاں جو میں بھی ڈالے جائیں گے ہم تو اس کو جائیں گے مین راحت نہ دل میں کچھ خیال لائیں گے ہم مینیں گے ہرگز نہ غیر کی ہم نہ اس کے دھوکے میں آئیں گے ہم بس ایک تیرے حضور میں ہی سر اطاعت جھکائیں گے ہم جو کوئی ٹھو کر بھی مارے گا تو اس کو سہہ لیں گے ہم خوشی سے کیں گے اپنی سزا یہی تھی زباں پر شکوہ نہ لائیں گے ہم ہمارے حال خراب پر گو ہنسی اُنہیں آج آ رہی ہے مگر کسی دن تمام دنیا کو ساتھ اپنے دلائیں گے ہم ہوا ہے سارا زمانہ دشمن ہیں اپنے بیگانے خوں کے پیاسے جو تو نے بھی ہم سے بے رخی کی تو پھر تو بس مر ہی جائیں گے ہم یقین دلاتے رہے ہیں دُنیا کو تیری الفت کا مدتوں سے جو آج تُو نے نہ کی رفاقت کسی کو کیا منہ دکھائیں گے ہم پڑے ہیں پیچھے جو فلسفے کے انہیں خبر کیا ہے کہ عشق کیا ہے مگر میں ہم رہبر و طریقت ثمار الفت ہی کھائیں گے ہم ۱۹۲۰ اختبار الفضل - جلد ۷ - ۱۹ ستمبر سنشله