کلام محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 93 of 302

کلام محمود — Page 93

طریق عشق میں اسے دل سیادت کیا غلامی کیا محبت خادم و آقا کو اک حلقہ میں لاتی ہے جانے ناگہاں بیٹھے ہیں ہم آغوشش دہر میں خبر بھی ہے مجھے کچھ تو کہیں آنکھیں دکھاتی ہے تیری رہ میں بھپائے بیٹھے ہیں دل مدتوں سے ہم سواری دیکھئے اب دلئہ پا کب تیری آتی ہے ہمارا متماں نے کر تمھیں کیا فائدہ ہوگا؟ ہماری جان تو بے امتحاں منی نکلی جاتی ہے بھرا ہوں حلقہ احباب میں گو میں مگر تجھ بن ہرے یار ازل تنہائی پھر بھی کالے کھاتی ہے ہماری خاک تک بھی اڑ چکی ہے اسکے رستہیں ہلاکت تو بھلا کس بات سے ہم کو ڈراتی ہے غم دل لوگ کہتے ہیں نہایت تلخ ہوتا ہے مگر میں کیا کروں اس کو غذا یہ مجھ کو بھاتی ہے مری جاں تیر کجام وصل کی خواہش میں اے پیارے مشال ماہی بے آب ہر دم تلملاتی ہے ہاں مہ کی مرے دل میں تو آتا ہے کہ سب احوال کنٹرالیوں نہ شکوہ جان میں، اس سے طبیعت ہچکچاتی ہے بھی جو روتے روتے یاد میں میں اس کی موجاں شیر یار اگر مجھ کو سینے سے لگاتی ہے انانیت پرے ہٹ جا مجھے مت منہ دکھا اپنا میں اپنے مال سے واقف ہوں تو کس کی بناتی ہے کبھی کا ہو چکا ہو تا شکار یاس و نومیدی مگر یہ بات اسے محمود میرا دل بڑھاتی ہے جو ہوں قدام دیں ان کو خدا سے نصرت آتی ہے جب آتی ہے تو پھر عالم کو اک عالم دکھاتی ہے