کلام اللہ کا مرتبہ اور حضرت مصلح موعود ؓ — Page 75
یہ تو روشن خیال مسلم زعماء کے نظریات ہیں۔جہاں تک مذہبی حلقوں کا تعلق ہے اُن کے نزدیک فرشتوں کا کیا تصور ہے جس کا بخوبی اندازہ ایک عالم دین کی کتاب " مجالس المؤمنین کے ایک اقتباس سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے ارشاد ہوتا ہے :۔یہ فرشتے بعض گائے کی شکل کے ہیں بعضے سانپ کی الینے گدھے کی اور بعضوں کا آدھا بدن برف کا اور آدھا آتش کا ہے؟ حضرت جبرائیل علیہ السلام : خداوند تعالیٰ نے ان کے سپر دوجی کا کام کیا ہے۔پانچ سو برس بعد میکائیل کے پیدا ہوئے۔ایک ہزار چھ سو باز و ہیں اور سر سے پاؤں تک زعفرانی ہیں۔دونوں آنکھوں کے درمیان سورج اور ہر بال پر چاند تا ر ہے ہیں۔ہر روز ۳۶۰ دفعہ نور کے دریا میں بیٹھتے ہیں اور جب نکلتے ہیں تو ان کے بازوؤں سے جس قدر قطر سے گرتے ہیں وہ سب فرشتے حضرت جبرائیل کی صورت پیدا ہوتے ہیں یا " حضرت میکائیل علیہ السلام ۱ ۵۰۰ برس بعد حضرت اسرافیل علیہ السلام کے پیدا ہوئے۔ان کے سپر و مینہ برسائے رزق پہنچانے کا کام مقرر ہے۔سر سے پاؤں تک زعفرانی بالی ہیں ، زیر جلد کے بازو ہیں، ہر بال میں دس لاکھ آنکھیں ہیں ہر آنکھ سے روتے ہیں اور ہر زبان سے مغفرت مانگتے ہیں۔ہر آنکھ سے ستر ہزار بوندیں ٹپکتی ہیں اور ہر بوند سے ایک فرشتہ میکائیل علیہ السلام کی صورت پیدا