کلام اللہ کا مرتبہ اور حضرت مصلح موعود ؓ — Page 159
۱۵۹ اس جدید تفسیر کے مطالعہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ حضرت امام جماعت احمدیہ نے اسلام پر اعتراضات کے جواب اصل اسلام کو مد نظر رکھ کر دئے ہیں وہ حقیقی اسلام جس میں تمام لوگ اپنے ریت سے ملاقات کا طریق مستقیم پاتے ہیں بالخصوص ایسے وقت میں جبکہ سالکین کے سامنے بے شمار راستے رونما ہو چکے ہیں کہ جن کی وجہ سے وہ اصل راستہ سے بہت دُور جا پڑے ہیں۔جناب امام جماعت احمدیہ نے اپنی اس تفسیر میں دشمنان اسلام کا بخوبی کہ وہ کیا ہے بالخصوص مستشرقین کے پیدا کردہ غلط خیالات اور اُن کے اعتراضات کا جواب بے نظیر علمی رنگ میں دیا ہے۔اس تفسیر میں آپ نے سورتوں کا باہمی تعلق نیز آیات کا باہمی ربط واضح کیا ہے۔اسی طرح آپ نے ہر سورت کی ابتداء میں اس سورت کے اندر بیان شدہ مضامین کا خلاصہ اور سورت کی شان نزول کا بھی ذکر فرما دیا ہے تاکہ پڑھنے والوں پر معانی کی حقیقت اور ان میں بیان شدہ مضمون کا اصل مفہوم اچھی طرح آشکارہ ہو جائے اور ان کے علم و معرفت میں اضافہ کا موجب ہو۔مزید بر آن تفسیر کو مفید تر بنانے کے لئے اس نفیس ترجمہ کے ساتھ نبی عربی (صلی اللہ علیہ وسلم ) کی سیرت طیبہ بھی آپ نے لکھ کر شامل کر دی ہے۔حضور کی یہ سوانح حیات بھی غایت درجہ عمدگی اور بہترین اسلوب اور اعلیٰ مضامین کی حامل ہے۔