کلام اللہ کا مرتبہ اور حضرت مصلح موعود ؓ — Page 160
14۔(۲) مصر و اردن کے جریدہ "وكالة الانباء العربية نے اس ترجمہ سے متعلق یہ لکھا ☑ والكتاب الشَّيْنُ فِي مَجْمُوعِهِ دِفَاعٌ عَنِ الْإِسْلَامِ وَ رَةٌ عَلَى خَصُومِهِ وَخَاصَّةَ المُسْتَشْرِقِيْنَ يُبْطِلُ مَزَاعِمَهـ۔۔۔وَمِمَّا يَجدِرُ ذِكْرَهُ اَنَّ الْمِسّر ذِكْرَهُ أَنَّ الْمِسَر زُمُ مَانَ الكَاتِبَة ال الْمَعْرُوفَةَ قَامَتْ بِتَرْجَمَةِ القُرانِ لَى الْهَوْلَندِيّةِ ، وَمَا كَادَتْ تُفْرِغْ مِن قد اعتنقت الإسلام ال یہ بیش قیمت کتاب مجموعی طور پر اسلام کی طرف سے دفاع اور مخالفین اسلام خصوصا مستشرقین کے اعتراضات کا رد ہے جو کہ ٹھوس علمی رنگ میں اِن کے نظریات کا ابطال کرتی ہے۔۔۔۔۔ایک اور بات قابل ذکر یہ ہے کہ ہالینڈ کی ایک مشہور مصنفہ مستر زهرمان نے قرآن مجید کا انگریزی سے ڈچ زبان میں ترجمہ کرنا شروع کیا۔ابھی وہ ترجمہ کے کام سے فارغ نہ ہو پائی تھیں کہ وہ حلقہ بگوش اسلام ہو چکی تھیں۔(۳) شام کے مشہور اخبار النصر نے اپنی ۱۲ ستمبر ۱۹۴۸ء کی اشاعت میں لکھ ه شماره ۶ فروری ۶۱۹۴۹ + (عکس آخر میں ملاحظہ فرمائیں ) 1