کلامِ ظفرؔ

by Other Authors

Page 95 of 194

کلامِ ظفرؔ — Page 95

وو 173 کلام ظفر 174 کلام ظفر وہ بھی نشاط رُوح کا ساماں نہ کر سکے ی نظم کسی کی فرمائش پر لکھی گئی ) جو شب کو اہتمام چراغاں نہ کر سکے پیدا کبھی وہ مطلع تاباں نہ کر سکے ہے ان مناظر قدرت کو بارہا یہ بھی ہمارے درد کا درماں نہ کر سکے دیکھا ابرو بهار و چشمه و کوهسار و لاله زار مغموم دل ہمارے کو شاداں نہ کر سکے سمجھے تھے جن کو باعث تسکین درد دل وہ بھی نشاط رُوح کا ساماں نہ کر سکے پابند وضع کو تو مسلماں ہوئے مگر پابندی اوامر قرآن نہ کر سکے بھر لیں گلِ مراد سے غیروں نے جھولیاں مسلم علاج تنگی داماں نہ کر سکے پڑھ پڑھ کے تھک گئے ہیں مگر یہ یہ علوم کو روشن ہمارا کلبه احزاں نہ کر سکے کر لیں ہیں اہل علم نے سب مشکلات حل پر مشکلات عشق کو آساں نہ کر سکے تر دامنی میں اور ریا کار بڑھ گیا پاک اس کے دل کو دیدہ گریاں نہ کر سکے کتنا ہے خوش نصیب ظفر آج تک جسے دنیا کے حادثات پریشاں نہ کر سکے روز نامه الفضل 15 جولائی 1991 ء صفحہ 2)