کلامِ ظفرؔ — Page 94
171 کلام ظفر 172 عالم سے دور بیٹھے ہیں عالم کے درمیاں ایک دن خاکسار اپنے چوبارہ پر بیٹھا تھا کہ ایک طرف پڑوسی کے گھر سے نوحہ و ماتم کی دلدوز چیچنیں اُٹھ رہی تھیں اور دوسری طرف کے پڑوسی کے گھر سے نغمات شادی اپنی طرف متوجہ کر رہے تھے۔اسی متضاد کیفیت سے متاثر ہوکر یہ اشعار کہے۔بیٹھے ہوئے ہیں شادی و ماتم کے درمیاں روح فنا بقا و لقا کے ہیں مرحلے حضرت مسیح و یحیی و مریم کے درمیاں آیا خدا بھی دوڑ کے دوڑی جو ہاجرہ کوه صفا و مروه و زمزم کے درمیاں حائل ہے تیرا تیرا پیار تیرے پیار کی قسم زخم دل فسردہ و مرہم کے درمیاں کلام ظفر عالم سے دور بیٹھے ہیں عالم کے درمیاں جنت کی آرزو ہے تو آتش میں گود جا کچھ بھی نہیں ہے فرق سوا درد کے ظفر قطرات اشک و قطرۂ شبنم کے درمیاں روزنامه الفضل 2 مارچ 1978 ء صفحہ 2) جنت ملے گی تجھ کو جہنم کے درمیاں تجھ کو غم معاش ہے مجھ کو غم جہاں کتنا لطیف بعد ہے غم غم کے درمیاں جاری ہے آج بھی تو وہی پہلی کشمکش ابلیس اور حضرت آدم کے درمیاں مریم کا مقام فنا ہے۔بیٹی کا مقام بقا ہے اور مسیح کا مقام لقا ہے۔