کلامِ ظفرؔ — Page 96
175 کلام ظفر 176 کلام ظفر زندگی جاوداں خدا کی ذات کا زندہ نشاں ہے ربوہ میں مثیل مهدی آخر زماں ہے ربوہ میں وہ • حُسنِ یارِ ازل جس کو ٹور کہتے ہیں برنگ دین محمد عیاں ہے ربوہ میں وہ ذات پاک کہ دنیا نہ پاسکی جس کو بہت قریب بہت مہرباں ہے ربوہ میں کسی میں ذوقِ طلب ہے تو آزما دیکھے شراب زندگی جاوداں ہے ربوہ میں مرے پکڑنے کو صیاد آنہیں سکتا اُسے خبر ہے میرا آشیاں ہے ربوہ میں نہ پوچھ مجھ سے ظفر ظفر بزم یار کا عالم نئی زمین نیا آسماں ہے ربوہ میں (بحوالہ کتاب ”ربوہ دسمبر 1962 ء بار دوم صفحہ 268) سختیاں راہِ صداقت میں ہمیں محبوب ہیں طالب شیریں نہیں تلخی کے ہیں فرہاد ہم