کلامِ ظفرؔ

by Other Authors

Page 66 of 194

کلامِ ظفرؔ — Page 66

115 کلام ظفر 116 کلام ظفر خوش آمدید حضرت عایق لمسیح الثالث کی افریقہ سے کامیاب مراجعت پر ) ربوہ کی سر زمین کی دولت تمہی تو ہو حُسن و جمال و شوکت و عظمت تمہی تو ہو وابستگی رُوح جماعت تمہی تو ہو حضن حصین و یمن و سعادت تمہی تو ہو اے زینت سریر خلافت خوش آمدید ہے آپ کا وجود ہی اس باغ کی بہار رخصت ہوئے جو آپ تو رخصت ہوا قرار ہر دم دُعائے خیر تھی ہر آن انتظار شکر خدا کہ آگئی پھر باغ میں بہار اے آنکه آمدی به سلامت خوش آمدید فطرت ہو جس کی نُورِ نبوت سے مستنیر ممکن نہیں کہ سمجھے کسی کو کبھی حقیر اپنے گلے لگایا انہیں تو نے اے امیر دل دادگانِ رنگ نے سمجھا جنہیں حقیر اے پیکر خلوص و محبت خوش آمدید رحمت خدائے پاک کی تجھ پر ہو اے امام پہنچایا شرق و غرب میں اسلام کا پیام کوئی سیاہ فام ہو یا سفید فام دی روشنی سبھی کو مثال تمام ای ماه آفتاب رسالت خوش آمدید کس شان سے ہے ناصر احمد میں جلوہ گر بِالرُّعْبِ قَدْ نُصِرُتُ “ کا مضمون اے ظفر مرعوب ہو ہی جاتا ہے ملتا ہے جو بشر دیتا نہیں سہارا کسی کو بھی زور و زر اے صاحب وجاہت و عظمت خوش آمدید (روز نامہ الفضل 27 جون 1970ء صفحہ 4)