کلامِ ظفرؔ — Page 65
113 کلام ظفر 114 کلام ظفر ) اَهلا و سهلا وَ مَرْحَبًا حضرت علیہ السیح الثالث کی افریقہ سے کامیاب مراجعت پر ) آقا ہمارے اَهْلًا وَسَهْلًا و مَرْحَبًا کیا خوب کام کر کے دکھایا حضور نے آواز تھی حضور کی یا حضور کی یا نفخ صور تھا دنیا کو روز حشر دکھایا حضور نے بنیاد کفر و شرک کی جس سے لرز گئی توحید کا وہ نعرہ لگایا حضور نے کچھ بھی نہیں ہے فرق سفید و سیاہ میں انسان کو سبق یہ پڑھایا حضور نے الست روحوں کو بیدار کر دیا خالق کو خلق سے ہے ملایا حضور نے دنیائے رنگ و بُو نے تھا سمجھا جنہیں حقیر سینے سے اپنے ان کو لگایا حضور نے اللہ کرے کہ اور بھی یہ سرفراز : اسلام ہو کا علم جو اٹھایا حضور نے ممکن نہ تھا کہ صدیوں میں انجام پاسکے جو کام آج کر کے دکھایا حضور نے کرتے ہیں رشک آقا! تری شان پر ملک جو جاگتے تھے اُن کو ہوئی روشنی عطا وہ رتبہ بلند ہے پایا حضور نے جو سو رہے تھے اُن کو جگایا حضور نے ہر دم رہے حضور کے سر سہرہ ظفر قلب و نظر پہ چھا گئیں جس کی تجلیاں اسلام کا وہ نور دکھایا حضور نے ملت کی شان کو ہے بڑھایا حضور نے روزنامه الفضل 20 جون 1970 ء صفحہ 5)