کلامِ ظفرؔ

by Other Authors

Page 67 of 194

کلامِ ظفرؔ — Page 67

117 کلام ظفر 118 کلام ظفر میں کون ہوں؟ ایک دن حضرت خلیفہ اسیح الثالث اپنی حد عمر کی اراضی پر تشریف لائے تو خاکسار بھی حاضر خدمت ہوا۔حضور نے مجھے دیکھتے ہی ( شاید میری کمزور نگاہوں کا امتحان لینے کے لئے ) از راه خوش طبعی فرمایا۔”میں کون ہوں؟“ ذیل کے اشعار حضور کے اس سوال کے جواب میں پیش کئے گئے۔کیا بتاؤں میں کہ حضرت کون ہیں ملت اسلامیہ کے عون ہیں بدر میں جو دین کو نصرت ملی ہیں اس دور میں نصرت وہی آپ بھی اک چودھویں کے چاند ہیں انجم ماند ہیں جس کی تابانی ނ احمد و محمود و ناصر خوش خصال ہیں کبھی ابنائے فارس کے رجال طالمود آپ کی عظمت کی شاہد معترف تھی آپ کی قوم یہود یا کریم ابن الكريم ابن الكريم أنتَ تَهْدِينَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيم میں تو ہوں بس اس قدر ہی جانتا اس سے بڑھ کر کچھ نہیں پہچانتا آپ ہیں وہ رہنمائے قافله حق نے جس کا نام رکھا نافلہ جانشینِ حضرت محمود ہیں وارث موعود بن موعود ہیں مثل فقیر بے ہے ہر دوسروں کے حال دل سے قوم کے سر پر ہو سایہ آپ کا جانتا ہے حق ہی پایہ آپ کا روزنامه الفضل 6 نومبر 1982ء صفحہ 5)