کلامِ ظفرؔ — Page 57
97 خدا حافظ کلا ظفر حضرت خلیہ اسیح الثانی کی یورپ کو روانگی ہمیں تیری فرقت گوارا نہیں مگر ہے گوارا که چارا ہے نہیں ہے خدا کی حفاظت میں جاؤ کہ جس سے کوئی بڑھ کے حافظ تمہارا نہیں ہے چلی سُوئے مغرب ہے رحمت خدا کی کہ مشرق کا اس یہ اجارا نہیں ہے مسلماں زمیں پر ہے نائب خدا کا حد اور کنارا نہیں ہے نیابت کی یہ مشرق یہ مغرب ہیں سارے ہمارے فقط ایشیا ہی ہمارا نہیں ہے وہ مغرب کہ صدیوں سے جس میں خدا نے کوئی برگزیدہ اتارا نہیں ہے 98 چلا ہے وہاں پھر مسیحا کا وارث خدا نے اُسے بھی بسارا نہیں ہے شکایت تھی عیسائیوں کو خدا سے کہ کیوں ابن مریم اُتارا نہیں ہے ہے احمد ہی موعود اقوام عالم کوئی اور منجی تمہارا نہیں ہے اسے مان لو گے تو پاؤ گے برکت اطاعت میں اس کی خسارا نہیں ہے چلا چاند اپنے ستاروں کو لیکر مجاہد کو منزل گوارا نہیں ہے خدایا محافظ تو ہی کبھی کا ہے سوا تیرے کوئی ہمارا نہیں ہے ظفر دردِ فرقت اُٹھانا پڑے گا یہ وہ درد ہے جس کا چارا نہیں ہے کلام ظفر (روز نامه الفضل 26 مارچ1955 ، صفحہ 5)