کلامِ ظفرؔ

by Other Authors

Page 56 of 194

کلامِ ظفرؔ — Page 56

95 دیدہ ظاہر میں اے محمود اک انساں ہے تو اہل دل کی دید میں پر بحر بے پایاں ہے تو صورت زیبا میں اپنی یوسف کنعاں ہے تو سیرت حسنہ میں اپنی مظہر رحماں ہے تو کلام ظفر احمد مرسل کے ثانی حسن میں احسان میں خوبیاں تجھ سی نہیں ہرگز کسی انسان میں تو مقدس باپ کے ہم رنگ اے محمود ہے نصرت اسلام روح والد و مولود ہے یہ حقیقت وہ ہے جو خود شاہد و مشہور ہے لا جرم لا ریب تو ہی مصلح موعود ہے دیر سے آیا ہے تو اور دُور سے آیا ہے تو یعنی اک نور ازل کے نور سے آیا ہے تو حضرت احمد سے پہلے تین تھے ایسے بشر حق تعالیٰ کی بشارت سے ملے جن کو پسر پدر حضرت ابراہیم اول دوم کمیٹی کے سوم مریم محصنہ جس پر تھی مولی کی نظر تیری پیدائش نے احمد کو کھڑا ان میں کیا ہیں یہی وہ تین جن کو چار تو نے کر دیا 96 ارض ربوہ پر ہیں جب سے آپ جلوہ گر ہوئے اس کے ذرے جگمگا کر ہم سر اختر ہوئے آپ کی ہمت سے ہی آبا دا جڑے گھر ہوئے اور قائم از سر نو مرکزی دفتر ہوئے کلام ظفر بالیقیں اپنی اولوالعزمی میں تو اک فرد ہے اے خدا کے شیر! تو اک آسمانی مرد ہے تیرے دم سے اے مسیحی روح فاروقی دماغ خانہ اسلام کا روشن ہوا دھندلا چراغ عاشقانِ ملت احمد کے دل ہیں باغ باغ دشمنان تیرہ باطن کے ہیں سینے داغ داغ حق نے باندھا ہے ترے سر سہرۂ فتح و ظفر اے بشیر الدین محمود احمد و فضل عمر (ماہنامہ مصباح ربوہ مارچ 1954 ، صفحہ 17 نیز روز نامه الفضل مصلح موعود نمبر 17 فروری 2012 ، صفحہ 4) نوٹ : یہ نظم سلور جوبلی کے موقع پر قادیان میں پڑھی گئی۔نیا مرکز ربوہ بننے کے بعد اس نظم میں مولانا نے چند اشعار کا اضافہ کیا۔اب اسے مکمل شائع کیا جارہا ہے۔