کلامِ ظفرؔ

by Other Authors

Page 58 of 194

کلامِ ظفرؔ — Page 58

99 کلام ظفر 100 کلام ظفر تیرے بغیر رُوح جماعت اُداس ہے اے آفتاب حسن ترے حُسن کے بغیر دنیائے مہر و عشق نہایت اُداس ہے ربوہ کی سر زمیں میں وہ رونق نہیں رہی مجھ کو قسم ہے لذت ایامِ وصل کی اب صابروں کے صبر کی طاقت اُداس ہے ہے شک مسیح مغرب مُردہ ہے تو مگر مشرق میں زندگی کی حرارت اُداس ہے مسجد اُداس قصر خلافت اُداس ہے جز وصل یار چین چین میسر نہیں ظفر منبر پہ ترے جلوہ دیدار کے لئے وہ گردنوں کے اٹھنے کی عادت اُداس ہے اس زندگی کی جو بھی ہے ساعت اداس ہے روزنامه الفضل 4 اگست 1955ء صفحه 2 نیز 23 مئی 2014ء خلافت نمبر صفحہ 13) کتنی کسی خطیب کی تقریر ہو عجیب تیرے بغیر ذوق سماعت اُداس ہے باقی نہیں نماز میں بھی وہ سرور و ذوق محراب بے قرار امامت اُداس ہے اے چشمہ مسرت ارواح قدسیاں تیرے بغیر رُوح جماعت اُداس ہے