کلامِ ظفرؔ

by Other Authors

Page 16 of 194

کلامِ ظفرؔ — Page 16

17 کلا ظفر نہ ہی اس پر کبھی توجہ دی جب اُن کی وفات ہوگئی جب میں خلیفہ بنا تو مجھے ان کی بات یاد آئی میں نے اُن کی اولاد میں سے خاص طور پر بڑے بیٹے سے کہا کہ اُن کے کاغذات میں دیکھیں۔اُنہوں نے بتایا کہ ایک ڈائری وہ ہمیشہ اپنے پاس رکھا کرتے تھے لیکن وہ ہمیں مل نہیں سکی۔ہوسکتا ہے وہ کہیں پڑی ہوئی ہو۔میں یہ جاننا چاہتا تھا کہ کس صورت کے کون سے حروف مقطعات میں سے انہوں نے یہ نتیجہ اخذ کیا تھا کہ چوتھے خلیفہ کون ہوں گے۔اب مجھے یاد آتا ہے کہ جب وہ میرے پاس آئے تھے تو اُن کی آنکھوں کی ایک چمک تھی ایک روشنی تھی اور اس سے بھی جو میرا نظریہ ہے تقویت پکڑتا ہے کہ واقعی اس میں آنے والے زمانے کی پیشگوئیاں ہیں جو آنے والے وقت میں پوری ہوتی رہتی ہیں۔“ ( درس القرآن 10 جنوری 1987 ء سورة آل عمران) حضرت خلیفہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ نے شعراء کے۔۔۔پروگرام مورخہ 15 مارچ 1994ء میں فرمایا: وو مولوی ظفر محمد صاحب ظفر مرحوم مغفور اُردو، عربی۔۔۔( فارسی ) میں بہت اعلیٰ پایہ کا کلام تھا۔آپ کا میرے ساتھ اگر چہ طالب علمی اور استاد کا رشتہ تو نہیں رہا لیکن مجھ سے تعلق بہت گہرا تھا۔وقف جدید میں اکثر آ کر بیٹھتے تھے اور قرآن کریم کے اوپر بھی بہت عبور تو کسی کو نہیں ہو سکتا مگر قرآنی مطالب کو سمجھنے کا شوق بہت تھا اور کئی دفعہ بڑے اچھے نکتے نکال کر لاتے تھے۔ایک عجیب در ولیش انسان تھے۔مولوی ظفر محمد صاحب ظفر ان کا بھی ذکر خیر اس مجلس میں چلے بھی۔ان حروف مقطعات کے ضمن میں والد محترم کی کتاب ”معجزات القرآن“ شائع ہو چکی ہے۔18 کے اشعار کے نمونے بھی ہوں تو اچھی بات ہے۔“ کلام ظفر حضرت خلیفہ المسیح الرابع ایدہ اللہ تعالیٰ کی اطفال کے ساتھ ملاقات مورخہ یکم مارچ 2000ء کے موقع پر حضور نے فرمایا: وو ظفر محمد صاحب ظفر کی ایک غزل الفضل میں چھپی تھی اور اُس پر نوٹ تھا مدیر صاحب کا کہ ان کی ایک ہی غزل ہے تو میں سمجھا وہ کہتے ہیں ان کی ایک ہی نظم ہے۔یعنی انہوں نے کبھی نظم کہی ہی نہیں تو میں نے اُن سے پوچھا یہ کیا آپ کر رہے ہیں ان کی تو بہت نظمیں ہیں۔اُردو میں بھی ہیں، فارسی میں بھی ہیں ، عربی میں بھی ہیں تو پھر انہوں نے بتایا کہ وہ نظمیں ساری دینی نظمیں ہیں۔جو غزل ہے وہ کوئی نہیں یعنی غزل میں تو کچھ دنیا کی باتیں کچھ دین کی سب آ جاتی ہیں تو میں نے کہا اچھا اب مجھے سمجھ آئی ہے۔انہوں نے تیار کی ہے ایک غزل وہ جو الفضل میں چھپی تھی۔وہ اب ظہیر سنا ئیں گے۔سوچتا ہوں کہ تجھے یاد کروں یا نہ کروں دل ترے پیار سے آباد کروں یا نہ کروں تو مری جان بھی ہے دشمن ایمان بھی ہے جان و ایمان کو برباد کروں یا نہ کروں عشق کے دام میں آزار بھی آرام بھی ہے دل کو اس دام سے آزاد کروں یا نہ کروں