کلامِ ظفرؔ

by Other Authors

Page 15 of 194

کلامِ ظفرؔ — Page 15

15 کلام ظفر دی۔13 جنوری 1981 ء کو بھائی جان کی طرف سے لکھے گئے دعائیہ خط پر اپنے دستِ مبارک سے حضور نے یہ نوٹ تحریر فرمایا ” دعا۔اور میری نظم عربی ترجمہ اور یہ خط واپس بھیجوا دیا۔16 کلام ظفر حضرت خلیفۃ اسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ خاکسار کے پاس یہ خط اب بھی موجود ہے۔جب مذکورہ عربی نظم مکمل ہو گئی جس میں والد صاحب نے مزید اشعار بھی شامل کئے اور حضور کی خدمت میں پیش کی گئی تو حضور نے بڑی خوشنودی کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا۔عربی منظوم نے مفہوم کو مزید اجاگر کی زبان مبارک سے آپ کا ذکر خیر کیا ہے۔مذکورہ عربی نظم 1989ء میں حضرت خلیفہ اسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ کی خدمت میں بھجوائی گئی محررہ 18 جنوری 1989ء میں لکھے گئے خط میں حضور نے پسندیدگی کا اظہار فرمایا اور لکھا۔محترم مولانا ظفر محمد صاحب ظفر کی ماشاء اللہ یہ بڑی اچھی کوشش ہے۔۔محترم مولانا ظفر محمد صاحب کی کوئی اور عربی نظمیں یا عربی مضامین ہوں تو وہ بھی یہاں بھجوا دیں یہاں سے اُنہیں انشاء اللہ عربی رسالہ میں شائع کیا جائے گا۔۔۔۔لہذا یہ نظم اُردو مکرم عبدالمنان صاحب ناہید کی ہے اور صوت السماء عربی منظوم خاکسار کے والد محترم مولا نا ظفرمحمد صاحب ظفر کا ہے۔طاہر احمد ظفر نوٹ : مذکورہ عربی نظم صوتُ السَّمَاء‘ صفحہ 291 پر موجود ہے۔حضرت خلیفہ امسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ نے اپنے درس القرآن (حروف مقطعات) مورخہ 10 جنوری 1987ء میں فرمایا جو کہ انگریزی میں تھا اور ساتھ ہی اس کا اُردو میں ترجمہ بھی نشر ہوا۔وہ پیش خدمت ہے۔۔۔۔۔۔احمدی سکالر مولوی ظفر محمد صاحب تھے (جنہیں ) مقطعات پر تحقیق کرنے کا بڑا شوق تھا اور بڑی محنت سے اُن پر تحقیق کیا کرتے تھے۔ایک دفعہ مقطعات کی رُو سے اُنہوں نے یہ نتیجہ نکالا کہ حضرت خلیفتہ المسیح الثالث تیسرے خلیفہ ہوں گے۔۔۔یہ منع ہے کہ کسی ایک خلیفہ کی موجودگی میں کسی دوسرے خلیفہ کا نام لیا جائے انہوں نے ایک کاغذ پر لکھا اور حضرت مرزا ناصر احمد صاحب (خلیفہ اسیح الثالث کو ہی دے دیا) اور ساتھ ہی نصیحت کی کہ میری وفات کے بعد اس کو پڑھیں یا پھر جب میں آپ کو کہوں گا پڑھیں اور بعد میں ثابت ہو گیا یہ پیشگوئی صحیح تھی۔ایک دن وہ میرے پاس وقف جدید کے دفتر میں آئے اور میری طرف دیکھ کر مسکرا رہے تھے اور کہنے لگے میں نے چوتھے خلیفہ کا نام بھی معلوم کر لیا ہے لیکن میں آپ کو بتاؤں گا نہیں۔میں نے کبھی بھی اس کے متعلق نہیں سوچا اور