کلامِ ظفرؔ

by Other Authors

Page 17 of 194

کلامِ ظفرؔ — Page 17

19 کلام ظفر تجھ کو تیری ہی قسم جانِ جہاں تو ہی بتا تیری مجبوری میں فریاد کروں یا نہ کروں تو ملے یا نہ ملے یہ تو ہے تقدیر کی بات تیری تصویر سے دل شاد کروں یا نہ کروں چشم اغیار سے چُھپ چھپ کے کہیں رو رو کر دل افسردہ کی امداد کروں یا نہ کروں میں تو ہر لمحہ تجھے یاد کئے جاتا ہوں یونہی کہتا ہوں تجھے یاد کروں یا نہ کروں یاد میں اُس کی جو شیریں سے بھی شیریں ہے ظفر زندہ پھر قصۂ فرہاد کروں یا نہ کروں جزاکم اللہ بہت اچھے! حبذا ! ما شاء اللہ ! بہت اچھا۔کلام بھی بہت اعلیٰ درجہ کا ہے۔فصاحت و بلاغت کا کمال ہے۔اس میں کئی جگہ تو بہت اونچے شعر ہیں۔شیریں اور فرہاد والا۔شیریں فرہاد کی محبوبہ تھی اور شیریں سے شیریں ہے زیادہ۔تو شیریں سے بھی بڑھ کر شیریں ہے۔بہت مزے کا کلام ہے۔ماشاء اللہ سارا کلام میں نے ان کا دیکھا ہے۔بہت اچھا کلام ہے۔شاباش جزاکم اللہ یہ غزل عزیزم ظہیر نے خوش الحانی سے پڑھ کر سنائی۔ناقل ) 20 کلام ظفر ملک سیف الرحمن صاحب پر نسپل جامعہ احمدیہ کا ایک خط به سلسله تقسیم انعامات سالانہ سپورٹس جامعہ احمدیہ مکرم محترم مولانا ظفرمحمد صاحب۔احمد نگر السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ امسال جامعہ احمدیہ کی سالانہ کھیلیں انشاء اللہ العزیز 29، 30، 31 صلح (جنوری) 1980ء کومنعقد ہورہی ہیں۔31 صلح (جنوری) کو اڑھائی بجے تا ساڑھے تین بجے آخری کھیلیں اور تقسیم انعامات کی تقریب ہوگی۔شمولیت کے لئے درخواست ہے نیز تقسیم انعامات کے لئے حضور کی خدمت میں درخواست کی گئی ہے۔حضور نے شرف قبولیت فرمالی تو جامعہ احمدیہ کے لئے عین سعادت اور خوش بختی ہوگی۔بصورت دیگر آپ سے یہ بھی درخواست ہے کہ اس روز جامعہ میں تشریف لا کر اور انعامات تقسیم کر کے طلبہ کو اپنے برمحل خطاب سے مستفید ہونے کا موقع بخشیں۔جزاكم الله احسن الجزاء۔والسلام خاکسار (ملک سیف الرحمن) 2 جنوری 1980ء