کلامِ ظفرؔ — Page 146
275 لَذَابَ الْمُحِبُّوكَ الْمَسَاكِينُ كُرْبَةٌ تیرے مسکین عاشق بے چینی سے پگھل جاتے إذَا لَمْ تُدَارِكُهُمْ بِلُطفِ الرِّسَالَةِ اگر تو اپنے پیغمبر بھیج کر اُن کا تدارک نہ کرتا وَأَنْزَلْتَ قُرْآنًا عَظِيمًا بِرَحْمَةٍ تو نے اپنی رحمت سے قرآنِ عظیم کو نازل فرمایا وَنَجَيْتَ خَلْقَكَ مِنْ ظَلَامِ الضَّلالة اور تو نے اپنی مخلوق کو گمراہی کی تاریکی سے نجات دی وَأَوْدَعْتَ فِيْهِ كُلَّ عِلْمٍ وَحِكْمَةٍ کلام ظفر تو نے قرآن حکیم میں ہر علم و حکمت رکھ دی وَفَضَّلْتَ تَفْصِيلَ التَّقَى وَالْهِدَايَةِ اور تقویٰ اور ہدایت کے تمام امور کھول کر بیان کر دیئے فَأَنجَيْتَنَا مِنْ كُلِّ مَا هُوَ مُهْلِكَ پس تو نے ہلاک کرنے والی ہر بات سے ہمیں نجات دی وَبَصَرتَنَا نَهْجَ الْهُدَى وَالسَّلَامَةِ اور تو نے ہمیں ہدایت اور سلامتی کا راستہ دکھایا 276 يُسمّونَ بِالنَّاسِ وَلَا أُنسَ بَيْنَهُمُ کلام ظفر لوگوں کو اُنس کی وجہ سے انسان کہا جاتا ہے جب کہ ان میں باہم محبت نہیں رہی يمزقُ كُلُّ غَيْرَهُ كَالْفَرِيسَة ہر کوئی دوسرے کو شکار کی طرح چیر پھاڑ رہا ہے وَانْزَلْتَ ذَا الْقُرْآنَ نُورًا وَحِكْمَةً تو نے اس قرآن کو بطور نور و حکمت نازل کیا وَ أَحْيَيْتَ اَمْوَاتَ الْقُرُونِ بِجَلوَة اور تو نے ایک ہی جلوہ سے صدیوں کے مردوں کو زندہ کر دیا إذَا مَا طَلَبتَ الْخَيْرَ فَالْخَيْرُ عِنْدَهُ اے دوست جب تو خیر کا طالب ہو تو خیر اسی کے پاس ہے الا إِنَّهُ مِفْتَاحُ خَيْرٍ وَبَرَكَة یا درکھو کہ وہ خیر و برکت کی کلید ہے وَمَا إِنْ مَدَحْتُكَ يَا حَبِيبُ بِكَلِمَتِي اے میرے محبوب اگر میں نے اپنے کلام سے تیری کوئی تعریف کی ہے ولكن يمدحِكَ قَد مَدَحْتُ قَصِيدَتِي تو وہ میں نے تیری تعریف سے اپنے قصیدے کی تعریف کی ہے (ماہنامہ الفرقان جنوری، فروری 1952 ، صفحہ 40)