کلامِ ظفرؔ — Page 145
(273 فَكَمْ مِنْ عُلُومٍ قَدْ كَشَفْتَ غِطَاءَهَا کتنے ہی علوم ہیں جن پر سے تو نے پردہ اُٹھایا وَكَمْ مِنْ نِكَاتٍ قَد أَرَيْتَ بِايَةٍ اور ایک ایک آیت میں کتنے ہی نکات تو نے دکھا دیئے فَكَيْفَ يفكر وَالتَّهَكُرُ نِعْمَةً پس تیرا شکر کیونکر ہو اور شکر اپنی ذات میں ایک انعام ہے فَتَحْتَ عَلَيْنَا بَابَ عِلْمٍ وَحِكْمَةٍ تُو نے ہم پر علم وحکمت کا دروازہ کھول دیا فَمَا زِلْتَ يَا قُرآنُ رَاحِي وَنَشْوَتِي کلام ظفر سوائے قرآن ! تو ہمیشہ میرے لئے کیف اور شراب کی طرح ہے وَمَا دُمْتُ حَيًّا دُمْتَ نُورًا لِمُهْجَتِي اور جب تک میں زندہ ہوں تو ہی میرے لئے نورِ جان ہے (ماہنامہ الفرقان سالانہ نمبر نومبر، دسمبر 1951 ء صفحہ 51) 274 60 قَصِيدَةً عَرَبَيَّةً کلام ظفر فِي مَدْحِ الْقُرآنِ الكَرِيمِ آيَا مَنْ أَحَاطَ الْكَائِنَاتِ بِرَحْمَةٍ اے وہ ذات جس نے تمام کائنات کا اپنی رحمت سے احاطہ کیا ہوا ہے وَاحْيَا قُلُوبَ الْعَاشِقِينَ بِجَلُوَة اور جس نے عاشقوں کے دلوں کو ایک جلوہ سے زندہ کر دیا فَلَوْلا تَجَلِيكَ الْمُسَاعِدُ رَبَّنَا اے ہمارے رب ! اگر تیری تجلی ہماری دست گیری نہ کرتی لكُنَّا حَيَارَى فِي غَيَاهِبِ ظُلُمَةٍ تو ہم تاریکیوں میں حیران و پریشان بھٹک رہے ہوتے