کلامِ ظفرؔ

by Other Authors

Page 144 of 194

کلامِ ظفرؔ — Page 144

271 کلام ظفر (272 کلا ظفر قَصِيدَةٌ عَرَبَيَّةٌ فى مَدحِ الْقُرآنِ الكَرِيمِ تَلوتُكَ يَا قُرآنُ يَا نُورَ مُهْجَتِي اسے قرآن ! اے میری جان کے ٹور! میں نے تیری تلاوت کی۔فَإِنَّكَ رَيْحَانِي وَ رَوْحِي وَجَنَّتِي یقینا تو ہی میری خوش بو ہے اور میری راحت اور میری جنت ہے أرى فِيْكَ نُورًا لَيْسَ يُمْكِنُ وَصْفُهُ میں تجھ میں ایک ایسا نور دیکھتا ہوں جو نا قابل بیان ہے تقربِه عَيْنِي وَتَهْتَزُّ نَسْبَتِي اس سے میری آنکھیں ٹھنڈی ہو جاتی ہیں اور میری رُوح وجد میں آجاتی ہے فلولا هُدَاكَ مَا عَرَفْنَا إِلهَنَا اگر تیری راہنمائی نہ ہوتی تو ہم اپنے معبود کونہ پہچان سکتے فَمَا أَنتَ إِلَّا مِنْهُ فَيُضَانُ رَحْمَةٍ سو تو اُس کی طرف سے فیضانِ رحمت ہے لَقَد كَانَتِ الْأَرْوَاحُ قَبْلَكَ فِي الدُّجى تیرے نزول سے پہلے روھیں تاریکی میں تھیں فَجَليتَهَا عَنْ دُخْتِهَا فَتَجَلَّتِ پس تو نے اُن کو دھوئیں سے نکالا اور وہ چمک اُٹھیں كَشَفْتَ عَنِ الْأَذْهَانِ أَسْتَارَ غَفْلَةٍ تو نے ذہنوں سے غفلت کے پردے اُٹھا دیئے وَجَلَّيْتَ لِلْإِنْسَانِ نُورَ الْحَقِيقَةِ اور تُو نے انسان کے لئے نورِ حقیقت کو نمایاں کیا ا إنسان العيون