کلامِ ظفرؔ

by Other Authors

Page 141 of 194

کلامِ ظفرؔ — Page 141

پیامِ وصل احمدیت ہی محبوب 265 جاناں کلام ظفر احمدیت ملنے کا پیام ہے تُبَشِّرُنَا بِرَيْحَانِ التَّلَا فِي جو ہمیں تعلق باللہ کی معطر خوشخبری دے رہی ہے جہانے شد انوارش منور ایک جہان اس (احمدیت) کے نوروں سے منور ہو گیا ہے يصُبْحِ يَنجَلِي لَيْلُ الْفِرَاقِ (خدا سے) دُوری و جدائی کی رات (احمدیت ) کی صبح سے جلوہ افروز ہو گئی ہے۔ميا نزدیک من آے زال دنيا اے دنیا دار شخص میرے قریب مت آ فَلَسْتُ بِرَاجِعِ بَعْد الطلاق کیونکہ میں چلا جانے کے بعد واپس لوٹنے والا نہیں ہوں ظفر گر ہوش میداری ظفر اگر تو سمجھدار ہے تَوَكَّلْ تو تو توکل علَى اللهِ الَّذِي حَتَّى وَبَاقٍ اس اللہ پر جو حی و قیوم اور باقی رہنے والا ہے۔روزنامه الفضل لاہور 9 اگست 1952ء صفحه (2) 266 کلام ظفر اقبال کی ایک فارسی غزل عربی لباس میں از چشم ساقی مست شرابم وَسَاقٍ عَيْنَهُ مِنْهَا سَكِرْتُ میں تو ساقی کی آنکھوں سے شراب پی کر مست اور کئی ایسے ساقی ہیں کہ اس کی آنکھ کی جھلک سے میں ایسی مستی کا شکار ہو گیا ہو گیا چور ہو گیا بے کے خرابم بے مے خرابم كَانِي قَدْ شَرِبْتُ وَمَا شَرِبْتُ میں (ظاہری) شراب پیئے بغیر ہی نشہ میں چور گویا کہ میں نے شراپ پی ہوئی ہے حالانکہ میں نے شراب نہیں پی شو قم فزوں تر از بے حجابی وَتَذْكُوْ نَارُ شَوْقِي بِالْوِصَالِ اس (محبوب) کے بے حجاب ہو کر میرے سامنے اور میرے عشق و شوق کی آگ اُس کے آنے سے میرا شوق جنوں مزید تیز ہو گیا وصال سے بھڑک اٹھی۔بینم نه بینم در پیچ و تابم فَلِي قَلَقْ دَنَوْتُ أَمْ نَأَيْتُ میں اس کو دیکھوں نہ دیکھوں ، دونوں صورتوں میں اُس کے قرب کو پاؤں یا اس سے دور میں بے چین رہتا ہوں رہوں میں بے چینی اور قلق سے دو چار ہوں۔چون رشته شمع آتش بگیرد كَخَيْطِ الشَّمْعِ يَذْكُو الْوِتْرُ نَارًا جس طرح شمع کا دھاگا آگ سے جل اٹھتا شمع کے دھاگہ کی طرح میرا رشتہ جان ہے۔( یعنی دل ) جل اٹھتا ہے۔