کلامِ ظفرؔ — Page 142
267 کلام ظفر از زخمه من تار ربابم إِذَا عُوْدِي بِمِضْرَا بِي ضَرَبْتُ (اسی طرح) میرے مضراب سے رباب کے جب بھی اپنی بانسری کو چھیڑتا ہوں تو وہ تار فریاد کرنے لگتے ہیں درد بھرے راگ الاپنے لگتی ہے از من پرُوں نیست منزل گهِ من قَرِيبْ مَنْزِلِي مِنِّي وَلَكِنْ میری منزل (عشق ) مجھ سے باہر تو نہیں میری منزل قریب ہے لیکن من بے نصیبم را بے نیابم أنَا الْمَحْرُوْمُ نَهْجِي مَا وَجَدْتُ لیکن میں بدقسمت ہوں کہ مجھے کوئی راستہ میں بے نصیب ہوں مجھے میرا راستہ نہیں مل رہا سمجھائی نہیں دیتا جب تک مشرق سے سورج طلوع نہیں ہوتا تا آفتابی خیزد ز خاور لِكَيْمَا تَطْلُعَنْ شَمْسَ بِأَفْقِ جب تک سورج اُفق سے طلوع نہیں ہوتا مانند انجم بستند خوابم مِثَالَ النَّجْمِ مِنْ نَوْمِي حُرِمْتُ ستاروں کی طرح مجھے جگا رکھا ہے ستاروں کی مانند میں بھی سونے سے محروم رہتا ہوں 268 کلام ظفر وَدَعْ كُلَّ هَدْيِ بَعْدَ هَدْيِ مُحَمَّدٍ وَ أَقْبِلُ إِلَى الْإِسْلَامِ تَنْجُ وَتُغْفَرٍ