کلامِ طاہر

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 78 of 265

کلامِ طاہر — Page 78

اس کا فیض تھا ورنہ میری دُعا کیا تھی کہے سے اُس کے دکھاتا تھا میراعلم انجانہ اُسی دیکھا جب اُس کا اذن نہ آیا ، خطا گئی فریاد رہی نہ آہ کرشمند ، نه پشم تم اعجاز غنا نے اُس کی جو عرفانِ بندگی بخشا نہیں تھا وہ کسی جُود و عطا سے کم اعجاز پیشم تم تمہیں سمجھایا ، بس خدا کے لئے دکھاؤ نا ، سر تسلیم کر کے کم اعجاز یونہی ثمنت اعدا سے مت ڈرو بي بي! ہمارے حق میں دکھائیں گے یہ بشم اعجاز بی ہوموت اُس کی رضا پر ، یہی کرامت ہے خوشی سے اُس کے کہے میں جو کھا ئیں سم ، اعجاز وہیں تمہاری انا کا سفر تمام ہوا حیات و موت وہیں بن گئے بہم اعجاز لحیف ہونٹوں سے اٹھی برائے استغفار ٹوائے تو یہ تھی اللہ کی قسم انجاز مجھے کبھی بھی تم اتنی نہیں لگیں پیاری وہ محسن تھا ملکوتی ، وہ شیط کم اعجاز اُس کی ہوگئیں تم ، اُس کے آمر ہی سے تمہیں امر بنانے کا دکھلا گئی عدم اعجاز کبھی تو آ کے ملیں گے ، چلو ، خدا کے سپرد کبھی تو دیکھیں گے احیائے ٹو کا ہم اعجاز همه 78 (۱۹۹۲ء)