کلامِ طاہر

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 79 of 265

کلامِ طاہر — Page 79

جو گل کبھی زندہ تھے آج سے تقریباً چالیس برس پہلے یادرفتگاں کے طور پر کچھ اشعار کہے تھے لیکن غزل نامکمل رہی۔اب آصفہ بیگم کی یاد میں ربط مضمون قائم رکھتے ہوئے اُسی غزل میں چند اشعار کا اضافہ کر کے اسے اُن کی طرف منسوب کر دیا گیا ہے۔ہے حُسن میں خو غم کے شراروں کے سہارے اک چاند معلق ہے ستاروں کے سہارے اک شعلہ سا لرزاں ہے سر گور تمنا اک غم چئے جاتا ہے مزاروں کے سہارے تو رُوٹھ کے اُمیدوں کا دل توڑ گیا ہے اے میری اُمنگوں کے سہاروں کے سہارے ناداری میں ناداروں کے رکھوالے تھے کچھ لوگ بخشش کے بھکاری، گنہگاروں کے سہارے سکھ بانٹتے پھرتے تھے مگر کتنے دکھی تھے بے چارگی غم میں بچاروں کے سہارے مرتے ہیں جب اللہ کے بندوں کے نگہبان رہتے نہیں کیا اُن کے دُلاروں کے سہارے؟ وہ ناؤ ، خدا بنتا ہے خود جس کا رکھویا پاگل ہے کہ ڈھونڈے وہ کناروں کے سہارے کانٹوں نے بہت یاد کیا اُن کو خزاں میں جو گل کبھی زندہ تھے بہاروں کے سہارے 79