کلامِ طاہر

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 74 of 265

کلامِ طاہر — Page 74

وہ فاصلے بڑھ گئے جو خدا کو ہوئے پیارے یہ نظم اپنی بیوی آصفہ مرحومہ کی یاد میں ۱۹۹۲ء میں کہی تھی۔تم بدلے نہ ہم ، طور ہمارے ہیں وہی قرب تو سارے ہیں وہی پر آکے دیکھو تو سہی بزم جہاں میں ، کل تک جو تمہارے ہوا کرتے تھے تمہارے ہیں وہی سے وہی کھیلیں گے کھیل جھٹپٹوں میں اُنہی یادوں وہی گلیاں ہیں وہی صحن ، چو بارے ہیں وہی ، وہی جلسے وہی رونق وہی بزم آرائی ایک تم ہی نہیں مہمان تو سارے ہیں وہی < شام غم ، دل شفق رنگ دکھی زخموں کے تم نے جو پھول کھلائے مجھے پیارے ہیں وہی 74