کلامِ طاہر — Page 75
am چاند راتیں ہیں وہی گلشن میں وہی وہی پھول کھلا کرتے ہیں ، چاند ستارے ہیں وہی وہی جھرنوں کے مدھر گیت ہیں مدہوش شجر نیلگوں رُود کے گل پوش پوش کنارے کنارے ہیں ہیں وہی ئے برستی ہے بلا بھیجو - کہاں ہے ساقی ي بھری برسات میں موسم کے اشارے ہیں وہی بے بسی ہائے تماشا کہ تیری موت نجشیں مٹ گئیں پر رنج کے مارے ہیں وہی تم وہی تو کرو کچھ تو مداوا غم کا ہو جن کے تم چارہ تھے میرے آنگن 09 ورد تو سارے ہیں وہی سے قضا لے گئی چن چن کے جو پھول جو خدا کو ہوئے پیارے مرے پیارے ہیں وہی ، تم نے جاتے ہوئے پلکوں سجا رکھے تھے جو گہر اب بھی میری آنکھوں کے تارے ہیں وہی منتظر کوئی نہیں ہے ساحل درنه وہی طوفاں ہیں ، وہی ناؤ کنارے ہیں وہی 75