کلامِ طاہر — Page 67
آمر ہوئی ہے وہ مجھ سے محمد عربی ندائے عشق ، جو قول ملی سے اٹھی ہے ہزار خاک سے آدم اُٹھے ، مگر بخدا شبیہ وہ ! جو تری خاک پا سے اٹھی ہے بنا ہے مبط انوار قادیاں۔دیکھو وہی صدا ہے، سنو ! جو سدا سے اٹھی ہے کنارے گونج اُٹھے ہیں زمیں کے ، جاگ اُٹھو کہ اک کروڑ صدا، اک صدا سے اٹھی ہے ، جو دل میں بیٹھ چکی تھی ، ہوائے عیش و طرب بڑے جشن سے ، ہزار انتجا سے اُٹھی ہے حیات کو کی تمنا۔ہوئی تو ہے بیدار مگر یہ نیند کی ماتی ، دُعا سے اُٹھی ہے المحراب سوواں جلسہ سالانہ نمبر بند کراچی۔جلسہ سالانہ جرمنی ۱۹۹۱ء) 67