کلامِ طاہر

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 68 of 265

کلامِ طاہر — Page 68

اپنے دیس میں اپنی بستی میں اک اپنا بھی تو گھر تھا نظم 1991ء میں قادیان کے سفر کے دوران کہی گئی اور جلسہ سالانہ قادیان کے موقع پر پڑھی گئی۔اپنے دیس میں اپنی بستی میں اک اپنا بھی تو گھر تھا جیسی سُندر تھی 09 گھر بھی سُندر تھا بستی ویسا وہ دلیس بدلیں لئے پھرتا ہوں اپنے دل میں اُس کی گتھا ئیں میرے من میں آن بسی ہے تن من دھن جس کے اندر تھا سادہ اور غریب تھی جنتا۔لیکن نیک نصیب تھی جنتا فیض رسان عجیب تھی جنتا ہر بندہ ، بندہ پرور تھا کچے لوگ تھے ، کچی بستی۔کرموں والی اُچی بستی - جو اُونچا تھا ، نیچا بھی تھا ، عرش نشیں تھا ، خاک بسر تھا اُس کی دھرتی تھی آکاشی ، اُس کی پر جا تھی پر کاشی جس کی صدیاں تھیں متلاشی ، گلی گلی کا کا وہ منظر تھا 68