کلامِ طاہر

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 66 of 265

کلامِ طاہر — Page 66

گھٹا گرام کی ہجوم بلا سے اٹھی ہے گھٹا کرم کی ، نجوم بلا سے اٹھی ہے کرامت اک دل درد آشنا سے اٹھی ہے جو آہ ، سجدۂ صبر و رضا سے اُٹھی ہے زمین بوس تھی ، اس کی عطا سے اٹھی ہے رسائی دیکھو! کہ باتیں خدا سے کرتی ہے دعا۔جو قلب کے تحت العرسی سے اٹھی ہے یہ کائنات آڈل سے نہ جانے کتنی بار خلا میں ڈوب چکی ہے خلا سے اٹھی ہے سدا کی رسم ہے، اہلبیسٹیٹ کی بانگ زبوں آنا کی گود میں پل کر اباء سے اٹھی ہے ہے کیا سے عاری ، سیہ بخت، نیش زن ، مردُود یہ واہ واہ کسی کربلا سے اٹھی خموشیوں میں کھنکنے لگی کسک دل کی اک ایسی ہوک دلِ بے نوا سے اُٹھی ہے مسیح بن کے ، وہی آسماں سے اتری ہے جو التجا ، دل ناکتخدا سے اٹھی ہے وہ آنکھ اٹھی تو مُردے جگا گئی لاکھوں قیامت ہوگی ، کہ جو اس ادا سے اٹھی ہے 66 i