کلامِ طاہر — Page 65
کس دن مجھے تم یاد نہیں آئے مگر آج کیا روز قیامت ہے! کہ اک حشر کیا ہے یادوں کے مُسافِر ہو تمناؤں کے پیکر بھر دیتے ہو دل، پھر بھی وہی ایک خلا ہے سینے سے لگا لینے کی حسرت نہیں مٹتی پہلو میں بٹھانے کی تڑپ حد سے سوا ہے یا رب یہ گدا تیرے ہی ڈر کا ہے سوالی جو دان ملا تیری ہی چوکھٹ سے ملا ہے گشته اسیرانِ رَهِ مولا کی خاطر مُدَّت سے فقیر ایک دُعا مانگ رہا ہے جس کہ میں وہ کھوئے گئے اُس راہ پر گدا ایک کشکول لئے چلتا ہے لب پر یہ صدا ہے مخیرات کر اب ان کی رہائی میرے آقا! کشکول میں بھر دے جو مرے دل میں بھرا ہے میں تُجھ سے نہ مانگوں تو نہ مانگوں گا کسی سے میں تیرا ہوں ، تو میرا خدا میرا خدا ہے (جلسہ سالانہ یو کے ۱۹۹۱ء) 65