کلامِ طاہر

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 38 of 265

کلامِ طاہر — Page 38

بخیر سُورج ہی نہیں ڈوبا اک شب سب چاند ستارے ڈوب گئے ظلمات کی طغیانی میں نور کے دھارے ڈوب گئے نفرت کا طوفان اُٹھا ، ہر شہر سے امن و امان اُٹھا جلب زَر کا شیطان اُٹھا ، مفلس کے سہارے ڈوب گئے وہ اے قوم تیرا حافظ ہو خدا ، ٹالے سر ٹالے سر سے ہر ایک بلا تا حد نظر سیل عصیاں ، ہر سمت کنارے ڈوب گئے بے کس بے بس کیا دیکھ رہی ہے اب چشم حیران وطن اے دیس سے آنے والے بتا کس حال میں ہیں یارانِ وطن اُس رحمت عالم ابر کرم کے وہ وہ آگ بجھانے آیا تھا کیسے متوالے ہیں آگ لگانے والے ہیں والی تھا مسکینوں کا بیواؤں اور یتیموں کا " یہ ماؤں بہنوں کے سر کی چادر کو جلانے والے ہیں سخا کا شہزادہ تھا بُھوک مٹانے آیا تھا وہ و یہ ٹھوکوں کے ہاتھوں کی روٹی چھین کے کھانے والے ہیں 38