کلامِ طاہر — Page 37
ہے کیا اب بھی سفید مناروں سے نفرت کی منادی ہوتی دھرتی کے نصیب اُجڑتے ہیں جب ناگ اذانیں دیتے ہیں سے یارانے بلبل کو دیس نکالا ہے اور زاغ و زغن ہر سمت چمن کی منڈیروں پر کاگ اذانیں دیتے ہیں محرومِ اذاں گر ہیں تو فقط مُرغان خوش الحان وطن اے دیس سے آنے والے بتا کس حال میں ہیں یارانِ وطن اک ہم ہی نہیں چھنتے چھلتے چن کے سب حق معدوم ہوئے رفته رفته آزادی سے سب اہل وطن محروم ہوئے چلتا ہے وہاں اب کاروبار سکہ نوکر شاہی کا اور کالے دھن کی فراوانی سے سب دھندے مخدوم ہوئے ملا آزاد کہاں وہ ملک جہاں قابض ہو سیاست پر جو شاہ بنے بے تاج بنے ، جو حاکم تھے محکوم ہوئے اور گھر کے مالک ہی بن بیٹھے باوردی دربانِ وطن اے دیس سے آنے والے بتا کس حال میں ہیں یارانِ وطن 37