کلامِ طاہر — Page 36
| کیا ظلم و ستم رہ جائیں گے اب دُنیا میں پہچان وطن اے دیس سے آنے والے بتا کس حال میں ہیں یارانِ وطن ظالم بد بخت کا نام نہ لے ، بس مظلوموں کی باتیں کر آزرده محکوموں کی باتیں کر حاکم کا ذکر نہ چھیڑ وہ جن سے لله لِله بَیر ہوئے ، جو اپنے وطن میں غیر ہوئے ان تختہ مشق ستم مجبوروں محروموں کی باتیں کر جیلوں میں رضائے باری کے جو گہنے پہنے بیٹھے ہیں ان راه خدا کے اسیروں کی ، اُن معصوموں کی باتیں کر جن کی جبینوں کے انوار سے روشن ہیں زندان وطن اے دیس سے آنے والے بتا کس حال میں ہیں یاران وطن وہ کیا اب بھی عوام وہاں ، جب بگڑیں بھاگ ، اذانیں دیتے ہیں سیلاب تھیڑے ماریں تو سب جاگ اذانیں دیتے ہیں 36