کلامِ طاہر

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 35 of 265

کلامِ طاہر — Page 35

بسم اللہ جو گوئے دار سے چل کر سُوئے یار آئے آنکھوں پر ہر راہ خدا کا مُسافر ، سو سو بار آئے یہ سب کے نصیب کہاں ، ہر ایک میں کب یہ طاقت ہے کہ پیار کی پیاس بجھانے کو وہ سات سمندر پار آئے میں اب سمجھا ہوں وہ کیفیت کیا ہوتی ہے جب دل کو ہر دُور اُفتاده اولیس سے بڑھ کر پیار آئے لخت جگر ان مجبوروں کا حال بھلا کیا جانیں تن آسان وطن اے دیس سے آنے والے بتا کس حال میں ہیں یارانِ وطن ہے تجھ تو جور و جفا کی نگری ، صبر و وفا کے دیس سے آیا ہے عیاں میرے پیاروں پر غیروں نے ستم جو ڈھایا ہے آنکھوں میں رقم شکووں کی کتھا ، آہوں میں بجھے نالوں کی صدا میرے محبوبوں کیا میرے نام یہی ہیں بتا جو تو سندیسے لایا ہے؟ صبح و مسا ، پڑتی ہے کیسی کیسی بکلا برسوں گئے ان اندیشوں کا سایہ ہے میری روح پر 35 1