کلامِ طاہر — Page 12
آنکھ اپنی ہی تیرے عشق میں ٹپکاتی ہے وہ لہو جس کا کوئی مول نہیں۔آج کی رات دیکھ اس درجہ غم ہجر میں روتے روتے مر نہ جائیں ترے دیوانے کہیں۔آج کی رات جن پہ گزری ہے وہی جانتے ہیں۔غیروں کو کیسے بتلائیں کہ تھی کتنی حسیں آج کی رات کاش اُتر آئیں یہ اُڑتے ہوئے سیمیں لمحات کاش یوں ہو کہ ٹھہر جائے یہیں آج کی رات 12 لهند :